لکھنا بہت ہی مقدس عمل ہے، لیکن انفجار معلومات کے عہد میں کہ جب دنیا انگلیوں پر سمٹ آئی ہے لوگ لکھنے اور پڑھنے کے عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ مہینوں اب کتابوں سے ملاقاتیں نہیں ہوپاتیں۔ ضرورت پڑنے کے بعد معلومات کو سرچ کرنے کا عمل لوگوں کو گہرائی اور گیرائی سے دور کر رہا ہے۔ علم بھی اب ہوا کی طرح ہوچکا ہے، جتنی دیر اسکرین کے سامنے ہے، اتنی ہی دیر دماغ میں بھی، اسکرین سے غائب تو دماغ سے بھی اوجھل۔ ہماری قوم جو کبھی پڑھی لکھی شمار کی جاتی تھی اب اسی کے یہاں سے مطالعہ کلچر عنقا ہوتا جارہا ہے۔ کتابیں، اخبارات اور رسائل و جرائد خرید کر پڑھنے کی بات تو چھوڑ ہی دیں، کوئی بھی چیز جو ’’پرنٹ‘‘ ہو وہ اب ماضی کا قصہ ہے۔ کتابیںکتب خانوں میں پڑی سڑ رہی ہیں کوئی ان پر نظر کرم ڈالنے والا نہیں۔ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کے اخبارات بند ہورہے ہیں، مجلات کی لٹیا ڈوب رہی ہے، اردو میں مجلات کی حالت تو مزید ناگفتہ بہ ہے۔ سب سمٹ کر بس ایک کلک میں آرہے ہیں۔ اچھا اب سونے پر سہاگا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں نہ قاری کو صبر ہے اور نہ ہی لکھاری کو۔ لکھنے والا بھی چاہتا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس کا لکھا لوگوں تک پہونچ جائے۔ اسے لگے ہاتھوں پذیرائی مل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لکھنے کے لئے اب لائبریریوں کا رخ نہیں کرتا ہے، نہ صفحات پلٹتا ہے، نہ مراجع و مصادر کی طرف رجوع کرتا ہے، الم غلم چیزیں جو بھی اسے ملتی ہیں پروستا چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے قوم کا مزاج بھی سنجیدہ نہ ہو کر پھکڑپن کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں کہ جب قوم کی ’’پرنٹ‘‘ سے بے اعتنائی کا ہر کوئی قائل ہو اگر کوئی رسالہ اور مجلہ نکالنے کی بات کرتا ہے، مختلف الخیال لوگوں کو جمع کرکے اسے تھنک ٹینک کی شکل دینے کی بات کرتا ہے تو اسے یا تو پاگل قرار دیا جا سکتا ہے، یا اس کی بات کو مجنوں کی بڑ قرار دے کر اسے نکارا جا سکتا ہے۔
یہ جو رسالہ اس وقت آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ بھی اسی پاگل پن کا اشاریہ ہے، ’’آگہی‘‘ یعنی شعور کی تعمیر، کہ جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے کہ قوم کو کچھ اچھا پڑھنے کو ملے، اچھا لکھنے والوں کا ایک گلدستہ تیار ہوجائے جو حالات حاضرہ کو نہ صرف تنقیدی نگاہ سے دیکھیں بلکہ اسے اسلامی تناظر میں بھی سمجھیں، اور معاصر امور و مسائل کے تئیں مثبت شعور و آگہی کی فضا قائم کریں۔ جو فقہیات و دینیات پر بھی بغیر مذہبی اور مسلکی تعصب کے لکھ بول سکیں۔ کہ جن کا مقصد ہندوستانی قوم کو ’’صراط مستقیم‘‘ پر گامزن کرنا ہو نہ کہ انھیں ’’بھٹکانا‘‘۔ ان کے لیے ’’ہندوتوا‘‘ کے گھٹاٹوپ اندھیروں کے سامنے امیدوں کے چراغ روشن کرنے ہوں، نہ کہ انھیں مزید انتشار و خلفشار کے اندھیروں میں ڈھکیلنا ہو۔
مجھے یقین ہے کہ اب بھی کچھ لوگ ہوں گے جنھیں صفحات پلٹنا اچھا لگتا ہوگا، اب بھی کچھ لوگ ہوں گے جو صرف سطر نہیں بین السطور کی خموشیاں بھی پڑھنا چاہ رہے ہوں گے، اور پھر شاید اگلی صدی میں بھی کچھ پاکباز روحیں ہوں گی جو اس صدی کے واقعات کو جاننے کے لیے بے چین ہوں گی، وہ لائبریریوں کا رخ کریں گی اور انھیں آگہی کی فائلیں ملیں گی، جن میں اس صدی کے لوگ چلتے پھرتے دکھائی دیں گے، تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کا اصل ورثہ پرنٹ شدہ مواد کی شکل میں ہی محفوظ ہوا ہے، ہماری کوشش یہی ہے کہ ’’آگہی‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہو جو ہماری موجودہ فکری کاوشوں کو آنے والی نسلوں تک پہونچائے گی۔ ہم اسے محض ویب سائٹ کی بھی شکل دے سکتے تھے لیکن پرنٹ ورزن کی اپنی اہمیت ہے، انٹرنیٹ پر سب کچھ موجود ہو کر بھی موجود نہیں رہتا، کسی واقعے کا محرک نہیں موجود تو وہ تحریر نہیں موجود۔ پرنٹ میں قاری کے ساتھ ایک قسم کا علمی وعدہ ہے، کچھ سکھانے کا وعدہ، ذہن کے بند دریچوں کو کھولنے کا وعدہ، کیوں کہ ظاہر سی بات ہے کہ سوشل میڈیا میں جہاں فرد اپنے اکاؤنٹ کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہیں پرنٹ ورژن میں کئی اسٹیک ہولڈر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی تحریر کے شائع ہونے سے پہلے اسے کئی مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔
سو’’آگہی‘‘ انہیں سب جتہوں میں ایک سنجیدہ کاوش ہے۔ ہمیں امید ہے کہ قارئین ان تحریروں کو پڑھ کر اپنی آراءسے ضرور آگاہ کریں گے، اور مستقبل میں اس مجلے کو مزید کیسے بہتر بنایا جا سکے اس کی طرف بھی رہنمائی کریں گے۔ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ موضوعات کے انتخاب میں ’’تنوع‘‘ اور ’’تخلیقیت‘‘ کے عناصر کو غالب رکھ سکیں، ہمیں یقین ہے کہ ان شاء اللہ العزیز مستقبل میں ہمارا رائٹر کلب ضرور ترقی پائے گا، بہترین لکھنے والے اس کے ساتھ جڑیں گے، اور ہم اسے ایک پلیٹ فارم کی شکل دینے میں کامیاب ہوسکیں گے۔