سیف ازہر (دہلی)

عزیر بھائی کے ہاتھوں آگہی کا گراں قدر تحفہ موصول ہوا۔ چوبیس گھنٹے میں پوری شدت کے ساتھ مجلّہ پڑھ گیا ۔ میں بہت کاہل ہوں، پڑھنے کا کوئی ذوق بھی نہیں ہے مگر یہ آگہی کی کشش تھی کہ چھیانوے صفحات کی میگزین بلا رکے تھکے پڑھ ہی گیا ۔ رشید ودود، ہاشم خان، ابوعکاشہ، ڈاکٹر عبدالرحیم، عزیر احمد، مغیرہ اور مولوی نصیر الحق کو پڑھتے ہوئے بار بار یہی لگا کہ ’’جی چاہتاہے نقش قلم چومتے چلیں‘‘ ۔ ان لوگوں کی تحریر میں معلومات، اسلوب اور طرز ادا کچھ اس قدر کافرانہ تھی کہ ’’اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے‘‘ کا ورد زبان پر لاشعوری آگیا۔ یہ تحریریں علمی کے ساتھ ساتھ فکری بھی تھیں ۔ اس کے علاوہ کے مضامین بیشتر علمی نوعیت کے ہیں ۔ کچھ ادبی چاشنی بھی ہے ۔
آگہی کے مشمولات پہلے شمارے کے اعتبار سے اطمینان بخش ہیں ۔ مزید اچھے لکھنے والوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے ۔ آئندہ شماروں میں قانونی، سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی دنیا کے ایسے لکھنے والے افراد کے مضامین کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جو یہ بتا سکیں کہ مسلم امہ ہندوستان میں اپنے کن کن قانونی مسائل کو کس کس طریقے اور انداز سے حل کرسکتی ہے ۔ اس کے لیے کچھ وکلاء اور قانونی ماہرین سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ موجودہ دور میں سیاسی میدان میں مسلمانوں کی کیا رہنمائی ہوسکتی ہے اس کے لیے مسلم اور سلجھے ہوئے غیر مسلم سیاستدانوں اور پولٹیکل ایکسپرٹ سے بات کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح سماج کے لیے سوشیالوجسٹ یا ایسے افراد جن کے پاس سماجی سروکار کا اچھا تجربہ ہو۔ مسلمانوں کے معاش کے لیے بھی اس طرح کی چیز ہوسکتی ہے۔ تعلیم اور کیرئیر کی رہنمائی کے لیے بھی یہی چیزیں کی جاسکتی ہیں ۔
ایک آخری بات جو میری ادنی سی گزارش ہے کہ میگزین میں کچھ ہو نہ ہو، پر ہر میگزین میں توحید اور اس کے تقاضوں سے متعلق ایک بہترین مضمون جو علمی، عقلی، سائنسی اور نقلی دلائل سے پُر ہو، ضرور ہونا چاہیے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔