جب ہم عہد رسالت میں تصور علم پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام یہ ایمان رکھتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ پوری کائنات اللہ کا کام۔ کلام کی روشنی میں کام کو سمجھنے کی کوشش واضح طور پر ان کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ اور دونوں پر غور و فکر کرنے کی جو الٰہی دعوت ہے وہ اس پر عمل پیرا تھے۔ آخر کار جہاں وہ ’’اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‘‘ کے مخاطب تھے وہیں "وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ‘‘ اور ’’وَ فِی...