’’دہشت گردی” کا لفظ بہت ہی "سبجیکٹیو” ہے، حکومتیں عموما اس کا استعمال اپنے مخالفین کے لیے کرتی ہیں۔ جمہوری حکومتوں میں تو پھر بھی اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن جہاں آمریت ہوتی ہے، یا جہاں بادشاہی نظام حکومت ہوتا ہے، وہاں کوئی بھی ایسا لفظ، ایسا جملہ "دہشت گردی” قرار دیا جا سکتا ہے جو ملک میں سیاسی اصلاح کے لیے بلند ہو، یا عوامی مشارکت کی گہار لگائے۔ اسی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ عرب ملکوں میں جب بھی سیاسی اصلاحات کی بات ہوتی ہے اسے فورا خروج، خارجی اور بغاوت سے جوڑ دیا جاتا...