’’آگہی‘‘ کا دوسرا شمارہ برادرم ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب کی جانب سے موصول ہوا۔ طویل عرصے بعد یہ پہلا رسالہ ہے جسے میں نے مکمل طور پر پڑھا۔
اس شمارے کے تمام مضامین اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہ صرف معیاری بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرنے والے ہیں۔ موضوعات کا تنوع، اسلوب کی شگفتگی اور تحقیقی انداز اس رسالے کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ ہر تحریر اپنے اندر علمی وزن اور فکری گہرائی رکھتی ہے۔
خصوصی طور پر چند مضامین نے گہرا اثر چھوڑا جن میں ’’دینی مدارس کے فارغین عصری اداروں میں کن مضامین کا انتخاب کریں‘‘، ’’بلڈوزر کی کارروائی سے کیسے بچیں‘‘، ’’ملی تنظیموں کے قائدین کے نام سیرت کا پیغام‘‘ اور نہایت اہم مضمون ’’جنسی تعلقات: سائنس اور اسلامی تعلیمات‘‘ شامل ہیں۔ یہ مضامین نہ صرف علمی و فکری وسعت عطا کرتے ہیں بلکہ عملی رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العالمین اس رسالے کی ادارت، تدوین اور اشاعت میں شامل تمام اہل قلم اور منتظمین کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ’’آگہی‘‘ اسی طرح علمی و فکری روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنتا رہے۔