’’ پھٹہ‘‘

کھیل کے نام پر کرکٹ کے علاوہ کچھ جانا ہی نہیں۔ جانا کیوں نہیں؟ جانتے تو تھے، لیکن افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ جہاں پورے محلے میں ایک بلّا تک نہ ہو۔ اور تین روپلی والی پلاسٹک کی ایک گیند جٹا پانا بھی جوئے شیر لانے جیسا ہو۔ وہاں دوسرے کھیل کوئی جان بھی لے، تو کرے کیا؟ راہ چلتے کہیں کوئی لکڑی کا پھٹہ پڑا نظر آ جاتا تو باچھیں کھل جاتیں۔ آنکھیں مارے خوشی کے روشن ہو جاتیں۔ لپک کر پھٹہ اٹھا لیتے۔ اسے ہاتھوں میں اٹھا کر یوں تولتے اور پرکھتے جیسے کوئی ماہر بلے باز کھیل...

THIRD ISSUE Membership Required

You must be a THIRD ISSUE member to access this content.

Join Now

Already a member? Log in here
error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔