ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے

اول شب ہے۔محفل جمی ہوئی ہے۔ احباب محو گفتگو ہیں لیکن ایک شخص چپ ہے اس کی آنکھوں میں اضطراب کی لہریں ہیں۔ مجھ سے رہا نہیں گیا، پوچھ بیٹھا کہ اداس ہو تو کیوں ہو؟ کہنے لگا کہ اداس ہوں لیکن اداسی کا سبب مادی نہیں ہے، روحانی ہے، میں اداس ہوں لیکن تم جیسوں کی رائیگانی پر، تم لوگ خود کو تباہ کر رہے ہو لیکن رونا تو اسی بات پر ہے کہ خود تم ہی لوگوں کو اپنی رائیگانی کا احساس نہیں ہے، محفل کیف و مستی کی تھی لیکن باتیں اتنی گہری تھیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے سنجیدہ ہونا پڑا، میں نے کہا کہ کھل کر کہو کہ کہنا کیا چاہتے ہو؟ اس نے کچھ کہنے کے بجائے الٹا مجھ ہی سے پوچھ لیا کہ ہمیشہ فیس بک پر ہی لکھتے رہو گے یا یہ چاہتے ہو کہ تمہارا لکھا کبھی پرنٹ بھی ہو؟ اہل علم کے حلقے میں برگزیدہ اسے ہی سمجھا جاتا ہے جس کی نگارشات پرنٹ ہو رہی ہوں، بات پتے کی تھی سو میں بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا لیکن مسئلہ پلیٹ فارم کا تھا، اس نے جھٹ اس مسئلے کا حل بھی پیش کر دیا کہ پلیٹ فارم میں دوں گا تم بس لکھو۔
یہ شخص جس سے میری گفتگو ہوئی ابن کلیم تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ابن کلیم بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ کوئی معیاری رسالہ نکالا جائے اور بہتوں سے اس ضمن میںاس کی گفتگو ہو چکی تھی پھر ایک دن چنندہ احباب کو اس نے گوگل میٹ پر جمع کیا اور یوں مجلس ادارت کا قیام عمل میں آیا اور اسی میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ رسالے کا نام’’آگہی‘‘ رہے گا۔vvv
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کو عروج ملا، لکھنے لکھانے کا عمل تیز ہوا لیکن رسائل و جرائد جو پہلے ہی بستر مرگ پر آخری ہچکیاں لے رہے تھے۔ سوشل میڈیا نے ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اب نہ رسائل و جرائد ہیں نہ پڑھنے والے، کچھ پڑھنے والےہیں لیکن انھیں کوالٹی نہیں مل رہی، ہر ادارے کا اپنا ایک رسالہ ہے لیکن وہ نہ ہوتے تو بہتر رہتا۔محدث ہے لیکن اب کوئی صفی الرحمن مبارک پوری نہیں ہیں، ترجمان ہے لیکن سلیمان صابر نہیں ہیں، الجمعیہ ہے لیکن عثمان فارقلیط نہیں ہیں، التوعیہ اور عبدالحمید رحمانی دونوں مرحوم ہو چکے۔ معارف دار المصنفین سے ہنوز شائع ہو رہا ہے اور اگر معیار کی بات کی جائے تو معارف ہی نے تھوڑی بہت آبرو بچا رکھی ہے۔
زیادہ تر رسائل یا تو خالص ادبی ہیں یا مذہبی یا وہ کسی خاص گروہ کے ترجمان ہیں لیکن آگہی بیک وقت مذہبی بھی رہے گا اور ادبی بھی، آگہی کو ہم ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں گے جہاں ہر مسلک کے اہل علم اپنی بات رکھ سکیں، شرط بس اتنی سی ہے کہ جو بھی کہا جائے سلیقے سے کہا جائے۔
مذہب اور ادب کے علاوہ ہر زندہ موضوع پر آگہی میں مضامین پیش کئے جائیں گے، تاریخ ہو، شعر و سخن ہو، بین الاقوامی تعلقات ہوں، تراجم و تبصرے ہوں ہر موضوع پر آگہی اپنے قارئین کو علمی اور معیاری مضامین سے متعارف کرائے گا۔ روزگار اور تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر ہم ایسے ماہرین کی خدمات لیں گے جو نوجوانوں کی رہنمائی کر سکیں، دعوت ایک اہم فریضہ ہے اس فریضے کی ادائیگی کے کیا طریقۂ کار ہیں ہم اس پر بھی گفتگو کریں گے۔ ہندوستان کے عہد وسطی اور عہد جدید کی تاریخ پر ہم ان شاءاللہ خصوصی مضامین پیش کریں گے اس لیے کہ ماضی کی بازیافت کے بنا ہم مستقبل کی صورت گری نہیں کر سکتے۔ انگریزی عہد میں ہمارے مترجمین نے جو قابل قدر تراجم پیش کئے اس کا عشر عشیر بھی ہم آزادی کے بعد نہیں پیش کر پائے ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس شعبے میں بھی اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ بظاہر باتیں ہم نے بڑی بڑی کی ہیں باوجود اس کے کہ ہم چھوٹے ہیں، ہماری کم علمی اور ناتجربہ کاری بھی مسلم لیکن ہمارے پاس جنون ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے جنوں کا نتیجہ ان شاءاللہ ضرور نکلے گا۔
رسائل و جرائد کی اہمیت اس حد تک مسلم ہے کہ بعض علماء رسائل و جرائد کو کتاب پر بھی فوقیت دیتے تھے، اللہ بخشے مولانا عبدالرؤف رحمانی کہا کرتے تھے کہ رسائل و جرائد کو محفوظ کر لیا کرو اس لیے کہ کتابیں بار بار شائع ہوتی ہیں لیکن رسالے بس ایک بار، کتب خانوں میں رسائل و جرائد کو محفوظ اسی لیے کیا جاتا ہے کہ تاکہ بعد والے بھی استفادہ کر سکیں۔ جامعہ سلفیہ کی لائبریری میں رسائل و جرائد کی فائلوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھا کرتا تھا جو لعل و گہر ان رسائل میں چھپے ہوتے ہیں وہ بعض اوقات کتابوں میں بھی نہیں ملتے۔ ’’نقوش‘‘ لاہور کے نمبروں کی جو اہمیت ہے اسی کے پیش نظر آج پھر انھیں زیور طباعت سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ الندوہ کی ساری فائلوں کو دارالمصنفین نے پھر سے شائع کر دیا ہے۔ معارف کا اشاریہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ آزادی سے پہلے اردو کے دامن میں بہت سے معیاری رسالے تھے، مخزن، اردوئے معلی، الہلال، البلاغ، زمیندار، ہمدرد اور انقلاب وغیرہ۔ ان رسالوں نے برصغیر کے عوام و خواص کے شعور کی جیسی تربیت کی ہے اس کی اہمیت سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی گمنامی کی موت مر گئے ہوتے لیکن ’’ترجمان القرآن‘‘ نے انھیں ایسی زندگی بخشی کہ اس زندگی پر بس رشک ہی کیا جا سکتا ہے۔ آزادی کے بعد’’صدق جدید‘‘ اور ’’تجلی‘‘ نے کچھ حد تک معیار کا بھرم قائم رکھا۔ بھرم کی بات ہم نے اس لیے کی ہے کہ دریاآبادی خاصے انتہا پسند تھے۔ ایک طرف وہ راہ چلتے لوگوں کے دین و ایمان پر سوال اٹھا دیا کرتے تھے تو دوسری طرف قادیانیوں کی لیے ان کا دل بہت بڑا تھا، رہا تجلی تو جب مولانا عامر عثمانی مولانا مودودی کے سحر سے آزاد ہوتے تھے تو کمال کے شاہ پارے تخلیق کرتے تھے۔ تعمیر حیات میں ’’الندوہ‘‘ کے نیابت کی صلاحیت نہیں تھی۔ جو کام تعمیر حیات کو کرنا چاہیے تھا وہ ’’ندائے ملت‘‘ کے ’’مسلم یونیورسٹی نمبر‘‘ اور ترجمان کے ’’مسلم پرسنل لا نمبر‘‘ نے کیا۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں سوشل میڈیا کی روشنی اتنی تیز تھی کہ اچھے اچھوں کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں لیکن آنکھ ملتے ہوئے اب بہت سے لوگ بیدار ہو کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، راہ پر خار ضرور ہے لیکن آبلہ پا کا انتظار اب بھی ہے۔ ہم آبلہ پا نہیں ہیں لیکن انھیں ڈھونڈ تو سکتے ہی ہیں۔ vvv
برصغیر میں رسائل و جرائد کی تاریخ لکھنا ہمارا مقصد نہیں لیکن ہم یہ ضرور بتانا چاہ رہے ہیں کہ ہر دور میں کچھ ایسے رسالے رہے ہیں جہاں ہر کسی کو بولنے کا موقعہ دیا جاتا تھا، ہم نیاز فتح پوری کی اباحیت پسندی سے واقف ہیں، ہم عبدالماجد دریاآبادی کی طرح تکل بھی نہیں لڑانا چاہتے اور نہ ہی ہم ماہرالقادری بننا چاہ رہے ہیں، ہم تو بس یہ چاہ رہے ہیں کہ جہاں عامر عثمانی کی ’’تجلی‘‘ بھی ہو اور صلاح الدین یوسف کا’’اعتصام‘‘ بھی ہو۔ ہمارے سامنے رسائل کے بہت سارے نمونے ہیں لیکن ہم آج ’’الرحیق‘‘ کو یاد کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ رسالہ ماہنامہ تھا اور اسے عطاءاللہ حنیف بھوجیانی نے لاہور سے جاری کیا تھا، عامر عثمانی نے ’’الرحیق‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کے معیار پر رشک کیا تھا لیکن عادت کے مطابق ’’بھوجیانی‘‘ کو ’’غیرادیبانہ‘‘ بھی کہہ دیا تھا۔ مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی کی ذات بڑی پرکشش تھی وہ ایسوں سے بھی کام لے لیتے تھے جن سے کام لینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ریئس احمد جعفری تک سے انھوں نے کام لے لیا۔ جس وقت انھوں نے الرحیق اجراء کیا اس وقت خود’’ اعتصام، ترجمان القرآن، طلوع اسلام اور فاران‘‘ جیسے رسالے شائع ہو رہے تھے لیکن الرحیق نے اول روز سے ہی اہل علم کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ الرحیق کا بھی اشاریہ شائع ہو چکا ہے اور اشاریہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خاصا. معیاری تھا۔ ہم بس اسی معیار کو پھر سے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔vvv
مجلس ادارت میں جتنے بھی نام ہیں وہ سب اہل حدیث ہیں۔ ہم نہ تو اپنی مسلکی شناخت چھپا رہے ہیں اور نہ ہی اس شناخت سے کوئی سمجھوتہ کریں گے لیکن اسی کے ساتھ ہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ احترام باہمی کی فضا بنے، ہم نہ تو کوئی تحریک لے کر اٹھے ہیں اور نہ ہی ہمارا کوئی ایسا مقصد ہے۔ ہم لوگوں کو لا مسلکیت کی طرف نہیں بلا رہے ہیں، ہمیں خبر ہے کہ برصغیر میں جس کسی نے بھی لا مسلکیت کی دعوت پیش کی بعد میں خود انھوں نے ایک مسلک کی بنیاد ڈالی، ہمارا مقصد تو بس اتنا ہے کہ افہام و تفہیم کیلیے ہم ایک پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں مختلف مسالک کے علماء اپنی بات رکھ سکیں۔vv
مولانا ابوالکلام آزاد نے الہلال کے پہلے شمارے میں لکھا تھا۔’’ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لیے نہیں بلکہ تلاش زیاں و نقصان میں آئے ہیں۔ صلہ و تحسین کے نہیں بلکہ نفرت و دشنام کے طلبگار ہیں۔عیش کے پھول نہیں بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈتے ہیں،دنیا کے سیم و زر قربان کرنے کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے تئیں قربان کرنے کے لیے آئے ہیں‘‘۔ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ مولانا آزاد نے ہمارے بھی احساسات کی ترجمانی کی ہے:
امید سے کم چشم خریدار میں آئے
ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے

1 خیال ”ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے“ پر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔