غم کی چادر اوڑھ کر چپ چاپ ٹھہرا ہے سماںگنگ ہیں ساری زبانیں، ذہن و دل محو فغاںزندگی کی پیچ و خم راہوں میں اے اہل جہاںٹوٹ کر بکھرا پڑا ہے درد کا کوہِ گراںوقت کے ہاتھوں اگر مٹتا دلوں سے نقش غمپردۂ شب میں کوئی ہوتا نہیں ماتم کناںہجر میں یعقوب کی مفقود بینائی ہوئیکرب میں یوسف بھی تھے یہ کون کرتا ہے بیاںحال دل کس سے کہیں ہم، کون ہے اب راز داںکون ہے جو دیکھ کر احوال سمجھے گا یہاںعالم ناسوت میں شئی کوئی لافانی نہیںہاں مگر یہ کیا بہاروں پر بھی چھاجائے خزاںآپ کیا رخصت ہوئے،...