کیا کب وہ ارادہ جو ٹلا ہو بلا سے میری کوئی بھی بلا ہو ہے دنیائے محبت اک تماشہ سو دنیائے محبت کا بھلا ہو ہوں بھرنے کو میسر سارے ساماں دلوں کے درمیاں پھر بھی خلا ہو تری آنکھوں کی مہجوری نے گویا نشاط دید پر سایہ ملا ہو حدیث رنگ و بو کے درمیاں ہی بہت ممکن ہے میرا دل جلا ہو کوئی ایسا نہیں راہ وفا میں جو میرے ساتھ فی الواقع چلا ہو میں جائے ماجرا اب تک کھڑا ہوں کہ جیسے کوئی پتھر میں ڈھلا ہو ہو فرعون تمنا جسم و جاں میں تو پھر...