قرآن کریم ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوا جس میں خالق کا اقرار عام تھا۔ دین ابراہیمی کے باقیات واضح طور پر موجود تھے، اہل مکہ کا عمومی عیب الحاد نہیں تھا، ان کا عیب یہ تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرتے تھے، یعنی ان کا اصل جرم شرک تھا، الحاد نہیں۔ گرچہ استثنائی طور پر اس معاشرے میں بھی بعض الحادی خیالات کا ذکر ملتا ہے، جیسے قرآن میں بیان ہے : وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ...