حسن ذوق کی داد دیتا ہوں، حسن معنوی اور صوری سے آراستہ جیسے بیوٹی پارلر سے سج سنور کر ابھی ابھی دلہن ہولے ہولے قدم رکھتے ہوئے میریج ہال میں داخل ہوئی ہو۔ گھونٹ گھونٹ نگاہوں سے پی رہا ہوں۔ رسالہ دیکھ کر اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اہلحدیثوں میں ذوق جمال نہیں ہے۔ آگہی ٹیم کو مبارکباد جس نے اس سج دھج کے ساتھ یہ رسالہ نکالا۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ آب و تاب کبھی ماند نہ پڑے۔ آمین۔
اٹھان تو بہت شان دار ہے، مضامین کا تنوع رسالے کی روح ہے، جس کے قلم کار ہاشم خاں، شمس الرب، رشید ودود، راشد حسن، عزیر اور ڈاکٹر عبدالرحیم جیسے ہوں اسے شاہکار تو بننا ہی ہے۔ مبارک باد، میری دعائیں آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ جی تو چاہتا ہے سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہو جاؤں لیکن آوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہوں۔ آگہی کے معیار کا مضمون تو شاید نہ لکھ سکوں ، تاہم جلد ہی شرکت کرنے کا وعدہ ہے۔