بیسویں صدی میں ایک خواب دیکھا گیا تھا، امن و شانتی کا خواب۔ ایک نعرہ لگایا گیا تھا ’’نو مور وارس‘‘۔ ایک امید دلائی گئی تھی اب دنیا جنگ و جدل کی اندھی گلیوں سے نکل کر روشنی کے سفر پر گامزن ہوگی۔ اکیسویں صدی کے ابھی پچیس سال بھی نہیں گزرے ہیں اور حالات جس طریقے سے بدل رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کہ مثالیت کی یہ دنیا اب جلد ہی اپنی فطرت پر واپس آئے گی۔ یعنی انارکی اور انتشار کی طرف۔ روس اور یوکرین کی جنگ، اسرائیل فلسطین کی جنگ، چین ہندوستان کا تنازعہ، ہندوستان اور...