عزیر صاحب واقعی مجلے کے لیے لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ آگہی کا پرانا شمارہ ابھی میرے ٹیبل پر ہے۔ یوں تو میرے پاس کئی رسالے آتے ہیں لیکن غالبا یہ پہلا رسالہ ہے جس کو میں نے مکمل پڑھا ہے۔ سبھی قلمکاروں نے خانہ پری کرنے کے بجائے دل سے لکھا ہے۔ میں جب بھی موقع پاؤں گا آگہی کے لیے ضرور لکھوں گا