کافی عرصہ انتظار کے بعد آگہی کا پہلا شمارہ پہنچا۔ اس مجلہ سے ایک الگ ہی قسم کا جذباتی لگاؤ ہے، اور کافی امیدیں بھی ہیں۔ آگہی امت کے رستے زخموں کی نمائش ہے، یہ نشتر بھی ہے مرہم بھی، یہ قوم کے تڑپتے دلوں کا ترجمان ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ آوارہ مزاجوں نے ایک انجمن سجا لی ہے، انھوں نے خود کو کسی ان کہے عہد سے وابستہ کر لیا ہے۔
اللہ اس انجمن کوعرصہ دراز تک آباد رکھے۔