عبدالمالک محمد علی

احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک مقالے میں اپنے استاذ رشید رضا مصری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی فکری پرواز میں بنیادی سبب مجلہ ’’المقتطف‘‘ اور دیگر رسائل تھے جو اس وقت نکلتے تھے۔ یہ بات آگہی کو پڑھتے وقت یاد آئی ۔ آگہی جب معرضِ اشاعت میں آیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ مقبولیت دیکھ کر یک گونہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ جب ’’پرنٹ‘‘ کا دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ، لوگوں نے آگہی کو لپک کر پکڑ لیا ۔ہمارے پاس مجلہ نہیں تھا کہ ہم نے آرڈر نہیں کیا تھا ۔ سوچا تھا کہ ’’ذاکر حسین لائبریری‘‘ ( جامعہ ملیہ اسلامیہ) میں مجلہ پہنچ ہی جائے گا تو معاملہ وہیں نپٹا دوں گا۔ میں اور لائبریری دونوں مجلہ کی راہ دیکھتے رہے مگر مجلے کو نہیں آنا تھا سو نہیں آیا ۔ (اب آگیا ہے مگر ریڈنگ ڈیسک تک نہیں پہنچا ) لائبریری میں مجلہ تو نہیں ملا مگر قبلہ حماد الرحمن مل گئے ۔ قبلہ شفقت نواز ہیں سو شفقت یہ فرمائی کہ ایک عدد ’’آگہی‘‘ پکڑا دی اور ہم اس محبت کو اپنی جھولی میں بھر کر جھومتے ہوئے واپس ہوگئے ۔
ایک ماہ قبل تاج محل دیکھنے گیا تھا جتنا اس کے بارے میں سنا اور پڑھا تھا دیکھا تو اس سے زیادہ خوبصورتی نظر نواز ہوئی، یہی بات ’’آگہی‘‘ کو پڑھ کر محسوس کیا ۔ آپ اس کی فہرست پہ نظر دوڑائیں ایسا لگے گا کہ کسی مصور نے کینوس کو خوش نما رنگوں سے بھر دیا ہے ۔ دروازہ کھلنے پر ’’ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے‘‘ سے ملاقات ہوئی ۔ دیر سے آئے مگر آئے تو سہی اور یہی بہت ہے کہ آگئے ۔ رشید ودود کسی تعریف کے محتاج نہیں ، لکھتے ہیں تو دل لوٹ لیتے ہیں ، میں ان کے قلم کو ایک ماہر ڈاکٹر کے ہاتھ کی طرح دیکھتا ہوں جو بڑی مہارت سے قینچیوں کو چلاتا اور علاج کرتا ہے ۔
خیر ، آگے بڑھا تو ہاشم خان کو سلام کیا ۔ مگر وہ میرے سلام کا جواب کہاں دیتے وہ تو اورنگزیب عالمگیر پہ بھونکنے والوں سے نپٹ رہے تھے ۔ مضمون پڑھا اور پڑھ کر یہ سوچنے لگا کہ اگر کوئی اس مضمون کو بنیاد بنا کر انگلش یا ہندی میں کتاب لکھ دے تو بڑا پنیہ ہوگا۔ جس طرح برصغیر میں نادان مسلمانوں نے محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کو بدنام کیا اسی طرح ہند کے گنواروں نے اورنگزیب عالمگیر کو بدنام کیا ۔ محمد بن عبد الوہاب کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں دیارِ شبلی کا مسعود عالم ندوی مل گیا اور اورنگزیب کو کنال کامرا تک نہیں ملا ۔ ہاشم خان کا یہ مضمون اس لائق ہے کہ انگریزی میں ترجمہ کرکے ’’THE HINDU‘‘ جیسے اخبارات میں چھاپا جائے مگر کون جیتا ہے ترے زلف کے سر ہونے تک۔
دریچے وا ہوتے گئے اور ایک دریچے پہ ابو عکاشہ سے ملاقات ہوگئی ۔ ان کی تحریر اس لائق ہے کہ ہم ان کا قلم چومیں اور مدارس والے ان کی باتوں کو ۔ مگر مدارس والے بھی آج کل ان بچوں کی طرح ہوگئے ہیں جو دن میں جگنو پرکھنے کی ضد کرتے ہیں ۔ صاحب مضمون نے جن پریشانیوں کا ذکر کیا ہے وہ قابلِ ملاحظہ ہیں انھیں حل کرنا اشد ضروری ہے ورنہ جگنو بھی ہمیں پرکھنے کی ضد کرنے لگیں گے ۔ آگہی کا سفر طے ہو رہا تھا ،میں ہر موڑ پہ لعل و گہر سمیٹتا گیا ۔
ڈاکٹر عبدالرحیم خان نے خودکشی کے اوپر شاندار مضمون لکھا ہے یہ مضمون پڑھ کر رکھ دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ روشنی حاصل کرکے ان کنوؤں کو پاٹ دینے کے لیے ہے جن میں گر کر بچے اپنی زندگیوں کو موت کے حوالے کر دیتے ہیں ، یہ مضمون خصوصی طور پر ان طلبہ ، والدین اور اساتذہ کے لیے ہے جو کسی زندگی کو بامِ تمام پر رکھنے میں شریک ہوتے ہیں ۔
عزیر بھائی کی فکر میں جو بالیدگی ہے وہ مضمون پڑھتے ہی جھلک مارنے لگتی ہے ۔ ڈاکٹر شمس الرب کا ترجمہ بھی لاجواب ہے ۔اندرا گاندھی صنفِ آہن کی بہترین نمونہ تھیں مگر ان کی اپنی بہو کے بارے میں کہی گئی ایک بات نے ہنسنے پر مجبور کردیا ۔ میں تو بہت زور سے ہنسا اور اپنے دوست کو بھی قہقہے میں شریک کر لیا کہ ’’میری بہو کھانا نہیں بناتی تھی ‘‘۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ عورت چاہے پردھان منتری بن جائے مگر جب ساس بنتی ہے تو ساس ہی رہتی ہے ۔
آگہی کے اس سفر میں سیف ازہر، راشد حسن مبارک پوری، کاشف شکیل، مولوی نصیر الحق خان اور تقریباً سارے قلمکاروں کے قلم کی جولانیاں، صفحات پہ بکھری ہوئی روشنائیوں کی سرگوشیاں، جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے الفاظ کی سرمستیاں ، حقائق کے چراغوں کی روشنیاں اور ہر سطر کے آئینے میں جھانکتی ہوئیں گہرائیاں میرے دل کے تاروں کو یوں چھیڑ رہی تھیں جس طرح کوئی موسیقار ستار پر اپنی انگلیوں کی ادھیڑ بن سے دھن بناتا ہے اور سننے والے سن کر سر دھننے لگ جاتے ہیں ۔ ریل نے آخری سیٹی ماری اور آگہی کے اس نادان مسافر کا سفر تمام ہوا۔

رہے نام اللہ کا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔