محمد یوسف محمد سمیع (یوپی)

الحمد للہ! آج مجھے مجلہ "آگہی” کا پہلا شمارہ موصول ہوا۔ اگرچہ اس وقت تفصیلی مطالعہ کا موقع نہیں ملا، مگر جیسے ہی فہرستِ مضامین پر نظر پڑی، دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ موضوعات کا انتخاب نہایت فکر انگیز، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اور علمی و فکری پیاس بجھانے والا محسوس ہوا۔”مساجد: سجدہ گاہ سے کمیونٹی سینٹر کا سفر” جیسے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجلہ دورِ حاضر میں دین کے مختلف پہلوؤں پر جدید زاویوں سے گفتگو کے لیے کوشاں ہے۔”برتھ سرٹیفکیٹ: شہریت کی بنیادی شناخت” جیسے موضوعات نہ صرف فکری ہیں بلکہ عملی زندگی سے جڑے نازک مسائل کی طرف قارئین کی توجہ دلاتے ہیں۔”نئے ہندوستان کا نیا فسادی پیٹرن” جیسا تجزیاتی مضمون اس بات کا غماز ہے کہ مجلہ آگہی صرف علمی نہیں بلکہ سماجی و سیاسی شعور بیدار کرنے کے مشن پر بھی گامزن ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اس مجلے کے مدیر، قلم کاروں، مرتبین اور پوری اشاعتی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے فکر و شعور کی روشنی پھیلانے کے اس عظیم کام کا آغاز کیا۔ اس علمی و فکری سفر میں آپ سب کی کاوشیں قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہیں۔دعا ہے کہ "آگہی” کا یہ سفر استقامت اور ترقی کے ساتھ جاری رہے، اور یہ مجلہ قوم و ملت کی فکری رہنمائی میں ایک مؤثر کردار ادا کرے۔جزاکم اللہ خیراً

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔