رسالہ کا نام "آگہی” شعور، بصیرت اور فکری ارتقا کی علامت ہے، جس کا عکس تمام مضامین میں موجود ہے۔ پہلا شمارہ 96 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اداریہ، مختلف النوع مقالات، تبصرے اور کتابی جائزے کو خاطر نشان رکھا گیا ہے ۔
اداریے میں رسالہ کے اجراء کے اغراض ومقاصد پر مختصر مگر جامع گفتگو کی گئی ہے۔” آگہی یعنی شعور کی تعمیر ،کہ جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ قوم کو کچھ اچھا پڑھنے کو ملے ،اچھا لکھنے والوں کا ایک گلدستہ تیار ہو جائے جو حالات حاضرہ کو نہ صرف تنقیدی نگاہ سے دیکھیں بلکہ اسے اسلامی تناظرمیں بھی سمجھیں ،اور معاصر امور و مسائل کے تئیں مثبت شعور وآگہی کی فضا قائم کریں”۔
رشید ودود صاحب نے بھی ” ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے” کے عنوان کے تحت سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کی موجودگی میں رسائل وجرائد کی اہمیت وافادیت اور اس کی مختصر تاریخ سے معاملہ کیا ہے اور” آگہی” کے لیے جواز تلاش کیا ہے۔نیز موصوف نے "آگہی” میں ہر زندہ موضوع پر مضامین پیش کرنے اور اپنے قارئین کو علمی اور معیاری مواد پروسنے کی بات کی ہے ، اور شمارہ اول اس بات کا گواہ ہے کہ معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔
حالیہ دنوں میں اورنگ زیب کے حوالے سے برسراقتدار پارٹی کے نیتاؤں اور اس سے وابستہ تنظیموں نے ہندوستانی سیاست میں جو نفرت کا بازار گرم کیا ہے، اورنگ زیب کے نام و کام کا راگ الاپ کر مسلمانوں کو بد نام کرکے اپنی سیاسی روٹی سینکنے کی جو سعی مذموم کی ہے، اس حرکیات پر محترم ہاشم خان نے وقیع اور جامع مضمون تحریر کیا ہے ،نیز تاریخی حوالوں کو پیش نظر رکھ کر جو معروضات پیش کیے ہیں وہ قابل غور ہیں ۔
نئے ہندوستان کا نیا فسادی پیٹرن” میں سلمان ملک نےبھی ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورت حال اور ان پر ہونے والے ظالمانہ مظاہر ( خواہ وہ لنچنگ کی شکل میں ہوں یا بلڈوزر کے ذریعہ مکانات کی مسماری) سے معاملہ کیا ہے ۔ مختلف ریاستوں میں براجمان بی جے پی حکومتوں اور اس کے کارندوں نے مسلمانوں کی تاریخ ، تہذیبی وثقافتی تشخص کوجس نوع سےنشانہ بنایا گیا ہے،موصوف نے اس حساس اور سلگتے ہوے موضوع کو انگیز کرنے کی سعی کی ہے۔
رسالہ میں شامل تمام مضامین خواہ وہ سیف ازہر کا "مساجد: سجدہ گاہ سے کمیونٹی کا سفر” ہوجس میں موصوف نے سوالات قائم کرکے مضمون کی نیو رکھی ہے اور پھر انھیں کے تحت عہد حاضر میں مساجد کی مرکزیت ،انتظام وانصرام اور دوسرے عوامل سے عمدہ بحث کی ہے ۔کچھ مشورے ایسے ہیں جن کو رو بہ عمل لانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ( مختلف النوع مسالک،افکارو خیالات اوراب منہج کو مد نظر رکھتے ہوئے)۔
اسی طرح ڈاکٹر عبد الرحیم خان صاحب نے ” ٹین ایج طلباء میں خود کشی کا بڑھتا رجحان اسباب وعلاج” کے عنوان سے ایک بہترین مضمون تحریر کیا ہے ۔خودکشی کے عوامل و محرکات کیا ہیں ،پر روشنی ڈالی ہے ،پھر اسباب وعلاج کے ذریعہ اس کے سد باب کی سعی کی ہے ۔اس میں مضمون نگار نے والدین کی اپنے بچوں کے تئیں ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کیا ہے۔
رسالہ میں شامل تمام مضامین پر فرداً فرداً گفتگو کرنا ممکن نہیں ہے ،لیکن ایک مضمون ” مدارس کی ڈگریوں کی ہندوستانی یونیورسٹیوں میں منظوری : ایک وقتی حل یا طویل مدتی مسئلہ ؟ میں ابو عکاشہ صاحب نے مدارس کی ڈگریوں کے حوالے سے جن مسائل کو نشان زد کیا ہے کاش مدارس کے منتظمین کے کانوں پر جوں رینگتی ۔ایک پلیٹ فارم پر آکر کوئی متحدہ لائحہ عمل تیار کرتے ،تاکہ مدارس کے فارغین طلبا مین اسٹریم میں آکر پروفیشنل ڈگریوں کے حصول کے بعد تلاش معاش کے لیے بھٹکنے کے لیے مجبور نہ ہوں ۔ چوں کہ میں نے بھی در در کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔2008 میں BTC کی لسٹ میں اپنے ضلع میں اول مقام آنے پر مجھے نوکری کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ ایسے ہی کئی اور امیدوار تھے جو مدارس کی ڈگری کے ساتھ سلیکٹڈ لسٹ میں تھے لیکن ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا جس کا ابو عکاشہ صاحب نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔
دوسرا موقع اس وقت سامنے آیا جب 2015 میں یو پی کی اکھلیش سرکار نے بڑے پیمانے پر گورنمنٹ انٹر کالج (GIC) میں بھرتی کے لیے اردو اسامی کا اشتہار جاری کیا تھا۔کونسلنگ کا عمل شروع ہوا۔ کونسلنگ بھی کی گئی لیکن میرٹ میں ہونے کے باوجود بھی سلیکٹڈ لسٹ میں نام ندارد ۔ اس مسئلہ کے ساتھ میں بذات خود اس وقت کے کمشنر برائے ’’لسانی اقلیات‘‘ پروفیسر اختر الواسع صاحب کے سامنے تمام ضروری کاغذات کے ساتھ حاضر ہوا۔ موصوف نے مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے دلچسپی دکھائی ۔وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور سچیو کے نام لیٹر جاری کرکے ان کی توجہ مبذول کرائی ۔اس وقت یوپی کے وزیر تعلیم جناب محبوب خان صاحب سے میرے سامنے ٹیلی فون پر بات چیت کر کے مسائل سے واقف کرایا ۔ وزیر تعلیم صاحب نے کارروائی کا وعدہ کیا ، لیکن جیسا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سارے مسائل ٹھنڈے بستے کی زینت بن جاتے ہیں ۔یہ مسئلہ بھی دو چار دن اخبارات کی سرخیوں میں رہے پھر سے امیدواروں کو مایوسی اور ناکامی ہاتھ لگی ۔
مضمون نگار نے اپنے مضمون میں ایک اہم نکتہ اُجاگر کیا ہے،اورمیرا بھی یہی ماننا ہے کہ ارباب مدارس کے سامنے جب ان مسائل کو پیش کیا جاتا ہے کہ کوئی ایسا حل ہو کہ مدارس کی تعلیم کے ساتھ ہائی اسکول اور پلس ٹو کے امتحانات دینے کی کوئی صورت نکالی جائے یا مدرسہ بورڈ کے مولوی اور عالم کے امتحانات کو متعینہ مدت اور سال (According NEP) کا حساب لگاکر دلوائے جائیں تو فارغین مدارس کو مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری نوکری میں آنے میں سہولت ہوگی، تو ارباب مدارس کی جانب سے اس بات پر بہت زور دیا جاتاہے کہ مدارس میں پڑھنے والوں کی تعداد ہی کتنی ہے ؟ مدارس کے نصاب کو اسکولوں میں پڑھانے کی وکالت کرنے لگتے ہیں ، سب سے بڑی بات یہ کہ مدارس کے بچے جب ان کے پیش نظر کوئی مسئلہ رکھتے ہیں یا مشورہ دیتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ "ہماری بلی ہمیں سے میاؤں”۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ بھائی عزیر احمد نے کچھ سال قبل مدارس کی ڈگری کے حوالے سے ایک طویل مضمون پوسٹ کیا تھا ، جس میں اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو نہایت ہی معروضی انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور میری خواہش ہے کہ آئندہ "آگہی”کے شمارے میں شامل اشاعت کیا جائے۔
اس شمارہ میں بھی موصوف کا ایک مضمون شامل ہےجس میں مسلم نوجوانوں کو صحیح سمت دینے کے لیے مسلم تنظیموں کے قیام اور دائرہ کار سے بحث کی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ہندوستان میں امبیڈکر کے ذریعہ لوگوں کا تعلیم حاصل کرنے اور منظم طریقے پر آپس میں جڑ کر جہدوجہد کرنے کے ماڈل کو پیش کیا ہے ۔جو قابل غور و قابل عمل ہے۔اس مضمون کے علاوہ عزیر احمد صاحب نے ED Hussain کی کتاب ’’دی ہاؤس آف اسلام‘‘ کا تفصیلی تبصرہ پیش کیا ہے۔ سب سے پہلے مصنف کے کوائف اور کتاب پر تفصیلی گفتگو کے ذریعہ تعارف کرایا ہے ۔فاضل مصنف نے ذاتی عصبیت کی بنا پر اپنی کتاب میں جن اسلامی افکار ونظریات کا غلط انٹرپریٹیشن کیا تھا ، ان پر معروضانہ نقد کی ہے۔مدلل اور تفصیلی تبصرہ سے عزیر صاحب کی علمی لیاقت اور مطالعہ کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔
آخر میں تمام احباب کا شکریہ کہ انھوں نے رسائل وجرائد کی بھیڑ میں ایک روشنی(آگہی)کے مینار سے روبرو ہونے کا موقع فراہم کیا ۔vvv