Filter posts by category

برید آگہی

محفوظ الرحمن فیضی (مئو)

برید آگہی

مدیر محترم ’’ سہ ماہی آگہی ‘‘! حفظہ الله و تولاہ السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ اللہ کرے مزاج گرامی بخیر ہو ، آگہی کا دوسر ا شمارہ کرم فرما شیخ راشد حسن حفظہ اللہ کے توسط سے دستیاب ہوا ،’’ چراغ آگہی‘‘ سے ’’چراغ آگہی‘‘ تک ، تمام مضامین کو بصد شوق و رغبت پڑھا اور مستفید ہوا ، آگہی کا آغاز یقیناً بہت خوش آئند ہے، اس لئے امید ہے کہ اس کا مستقبل خوب سے خوب تر ہوگا ان شاء الله العزیز- موجودہ سنگین حالات میں جبکہ بہت سے جاری رسائل و مجلات کی اشاعت بند ہو […]

محفوظ الرحمن فیضی (مئو) مکمل پڑھیں

محمد عرفان خان (سعودی عرب)

برید آگہی

’’آگہی‘‘ کا دوسرا شمارہ برادرم ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب کی جانب سے موصول ہوا۔ طویل عرصے بعد یہ پہلا رسالہ ہے جسے میں نے مکمل طور پر پڑھا۔ اس شمارے کے تمام مضامین اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہ صرف معیاری بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرنے والے ہیں۔ موضوعات کا تنوع، اسلوب کی شگفتگی اور تحقیقی انداز اس رسالے کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ ہر تحریر اپنے اندر علمی وزن اور فکری گہرائی رکھتی ہے۔ خصوصی طور پر چند مضامین نے گہرا اثر چھوڑا جن میں ’’دینی مدارس کے فارغین عصری اداروں میں کن مضامین کا انتخاب کریں‘‘، ’’بلڈوزر کی

محمد عرفان خان (سعودی عرب) مکمل پڑھیں

عمیر مقتدیٰ رحمانی (کتب خانہ بشیریہ، مئو)

برید آگہی

کتب خانۂ بشیریہ، مئو میں مجلہ ’’آگہی‘‘ کا پرتپاک خیرمقدم ! ہم مجلہ اہلِ ’’آگہی‘‘ دل کی گہرائیوں سے ان تمام اہلِ علم، اہلِ قلم اور قدر دانانِ علم و ادب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس علمی کارواں کا استقبال گرم جوشی سے کیا۔ بالخصوص ہم مجلہ آگہی کے راہبر، اور صاحبِ فکر و نظر شیخ ابن کلیم صاحب کے مشکور ہیں، جن کے دل میں یہ خواب نہ جانے کب سے دھڑک رہا تھا۔ یہ محض ایک خیال نہ تھا، بلکہ ایک عزم، ایک تڑپ، ایک بصیرت تھی جسے انہوں نے لفظوں کی صورت دی، اور

عمیر مقتدیٰ رحمانی (کتب خانہ بشیریہ، مئو) مکمل پڑھیں

مزمل عارفین (کلکتہ)

برید آگہی

آگہی کا مجھے بڑی بے صبری سے انتظار تھا الحمدللہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئی، کھول کر دیکھا تو بڑا ہی عمدہ لگا کاغذ کی کوالٹی واقعی قابل دید ہے۔ میں نے آج تک اس طرح کے رسالے بہت ہی کم دیکھے ہیں ،اس کے بعد اس کے اندر کے موضوعات کا کیا کہنا۔ ابو عکاشہ بھائی کا ’’مدارس کی ڈگریوں کی ہندوستانی یونیورسٹیوںمیں منظوری‘‘ دور حاضر کا بڑا ہی چبھتا ہوا موضوع کا انتخاب کیا ہے مجھے بہت پسند آیا۔مجھے امید ہے کہ آپ لوگ اس موضوع کو برقرار رکھیں گےکیونکہ یہ موضوع بچوں کی دینی و عصری

مزمل عارفین (کلکتہ) مکمل پڑھیں

عبیدالرحمن انیس احمد

برید آگہی

رسالہ کا نام "آگہی” شعور، بصیرت اور فکری ارتقا کی علامت ہے، جس کا عکس تمام مضامین میں موجود ہے۔ پہلا شمارہ 96 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں اداریہ، مختلف النوع مقالات، تبصرے اور کتابی جائزے کو خاطر نشان رکھا گیا ہے ۔ اداریے میں رسالہ کے اجراء کے اغراض ومقاصد پر مختصر مگر جامع گفتگو کی گئی ہے۔” آگہی یعنی شعور کی تعمیر ،کہ جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ قوم کو کچھ اچھا پڑھنے کو ملے ،اچھا لکھنے والوں کا ایک گلدستہ تیار ہو جائے جو حالات حاضرہ کو نہ صرف

عبیدالرحمن انیس احمد مکمل پڑھیں

محمد یوسف محمد سمیع (یوپی)

برید آگہی

الحمد للہ! آج مجھے مجلہ "آگہی” کا پہلا شمارہ موصول ہوا۔ اگرچہ اس وقت تفصیلی مطالعہ کا موقع نہیں ملا، مگر جیسے ہی فہرستِ مضامین پر نظر پڑی، دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ موضوعات کا انتخاب نہایت فکر انگیز، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اور علمی و فکری پیاس بجھانے والا محسوس ہوا۔”مساجد: سجدہ گاہ سے کمیونٹی سینٹر کا سفر” جیسے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجلہ دورِ حاضر میں دین کے مختلف پہلوؤں پر جدید زاویوں سے گفتگو کے لیے کوشاں ہے۔”برتھ سرٹیفکیٹ: شہریت کی بنیادی شناخت” جیسے موضوعات نہ صرف فکری ہیں بلکہ عملی زندگی سے جڑے

محمد یوسف محمد سمیع (یوپی) مکمل پڑھیں

عبدالمالک محمد علی

برید آگہی

احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک مقالے میں اپنے استاذ رشید رضا مصری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی فکری پرواز میں بنیادی سبب مجلہ ’’المقتطف‘‘ اور دیگر رسائل تھے جو اس وقت نکلتے تھے۔ یہ بات آگہی کو پڑھتے وقت یاد آئی ۔ آگہی جب معرضِ اشاعت میں آیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ مقبولیت دیکھ کر یک گونہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ جب ’’پرنٹ‘‘ کا دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ، لوگوں نے آگہی کو لپک کر پکڑ لیا ۔ہمارے پاس مجلہ نہیں تھا کہ ہم نے

عبدالمالک محمد علی مکمل پڑھیں

سیف ازہر (دہلی)

برید آگہی

عزیر بھائی کے ہاتھوں آگہی کا گراں قدر تحفہ موصول ہوا۔ چوبیس گھنٹے میں پوری شدت کے ساتھ مجلّہ پڑھ گیا ۔ میں بہت کاہل ہوں، پڑھنے کا کوئی ذوق بھی نہیں ہے مگر یہ آگہی کی کشش تھی کہ چھیانوے صفحات کی میگزین بلا رکے تھکے پڑھ ہی گیا ۔ رشید ودود، ہاشم خان، ابوعکاشہ، ڈاکٹر عبدالرحیم، عزیر احمد، مغیرہ اور مولوی نصیر الحق کو پڑھتے ہوئے بار بار یہی لگا کہ ’’جی چاہتاہے نقش قلم چومتے چلیں‘‘ ۔ ان لوگوں کی تحریر میں معلومات، اسلوب اور طرز ادا کچھ اس قدر کافرانہ تھی کہ ’’اسی کو دیکھ کر

سیف ازہر (دہلی) مکمل پڑھیں

سعیدالرحمان مغیرہ

برید آگہی

کافی عرصہ انتظار کے بعد آگہی کا پہلا شمارہ پہنچا۔ اس مجلہ سے ایک الگ ہی قسم کا جذباتی لگاؤ ہے، اور کافی امیدیں بھی ہیں۔ آگہی امت کے رستے زخموں کی نمائش ہے، یہ نشتر بھی ہے مرہم بھی، یہ قوم کے تڑپتے دلوں کا ترجمان ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ آوارہ مزاجوں نے ایک انجمن سجا لی ہے، انھوں نے خود کو کسی ان کہے عہد سے وابستہ کر لیا ہے۔ اللہ اس انجمن کوعرصہ دراز تک آباد رکھے۔

سعیدالرحمان مغیرہ مکمل پڑھیں

عبدالله نادر

برید آگہی

سہ ماہی میگزین آگہی کے تعلق سے عرض یہ ہے کہ ایک وقار آفریں علمی مجلہ ہے، جو حیاتِ انسانی کے متنوع شعبوں پر فکر انگیز اور بصیرت افروز مضامین کا گنجینہ ہے۔ یہ مجلہ عصری تقاضوں، علمی مباحث کو سنجیدہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ امید ہے آئندہ شماروں میں بھی معیار کے ساتھ کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔

عبدالله نادر مکمل پڑھیں

ابوالمرجان فیضی (مالیگاؤں)

برید آگہی

سہ ماہی رسالہ آگہی کے تین نسخے موصول ہوئے۔ نظر پڑتے اور ہاتھ میں لیتے ہی رسالے کے "باوزن” ہونے کا احساس ہوا۔ بڑی سائز میں عمدہ کاغذ پر دیدہ زیب طباعت ہے جو ہندوستان کے کسی بھی رسالے کو نصیب نہیں۔ایسی طباعت فارن کنٹریز میں ہوتی ہے۔ مضامین پر تبصرہ پھر کبھی۔

ابوالمرجان فیضی (مالیگاؤں) مکمل پڑھیں

عبدالقیوم (سعودی سفارت خانہ)

برید آگہی

نوجوان ممتاز قلمکار برادرم عزیر احمد نے کل آگہی کا خشت اول دستیاب کرایا۔ برادرم عزیر اور آگہی کی پوری ٹیم کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ لوگوں کو سلامت رکھے اور رسالہ کے تئیں جو جنون ہے اسے دوام بخشے۔ ابھی صرف دو مضمون پڑھ سکا۔ مکمل مطالعہ کے بعد تبصرہ ہوگا ان شاء اللہ۔ کامیابی کے لئے جنون اور لگن ناگزیر ہے۔ اور یہ چیز آگہی کی عمارت کے ہر ستون میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ بنا بریں قوی امید ہے کہ ان شاء اللہ رسالہ اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جاری رہے گا اور تاریخ رقم

عبدالقیوم (سعودی سفارت خانہ) مکمل پڑھیں

راشد حسن مبارکپوری (جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو)

برید آگہی

رسالہ آگہی ممبئی موصول ہوا، جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو کے سینئر اساتذہ کے درمیان اس کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی، بیشتر اساتذہ نے ملاحظہ کیا، مشمولات پر اپنی خوشی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ مقالات سبھی انتہائی قیمتی ہیں، لیکن قابل ذکر ہے کہ برادر عزیز وفاضل عزیر احمد (سلفی = جواہر لعل نہرو دہلی) کے دو مضامین اس رسالہ کی زینت ہیں، جن کا ذکر اساتذہ نے خاص طور پر کیا اور ستائشی کلمات کہے، اللہ نوجوان اہل قلم کو تازہ وتوانا رکھے اور امت کے حق میں مفید بنائے۔

راشد حسن مبارکپوری (جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو) مکمل پڑھیں

عزیر احمد (مغربی بنگال)

برید آگہی

عزیر صاحب واقعی مجلے کے لیے لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ آگہی کا پرانا شمارہ ابھی میرے ٹیبل پر ہے۔ یوں تو میرے پاس کئی رسالے آتے ہیں لیکن غالبا یہ پہلا رسالہ ہے جس کو میں نے مکمل پڑھا ہے۔ سبھی قلمکاروں نے خانہ پری کرنے کے بجائے دل سے لکھا ہے۔ میں جب بھی موقع پاؤں گا آگہی کے لیے ضرور لکھوں گا

عزیر احمد (مغربی بنگال) مکمل پڑھیں

اطہر افضال (دہلی)

برید آگہی

آگہی کی آمد کی بشارت سوشل میڈیا سے مل گئی تھی اور مجلس ادارت میں شامل ارباب علم و دانش کے علمی پس منظر سے آگہی کے مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مجلس ادارت کے تمام نام میرے لیے واجب الاحترام ہیں کیوں کہ میں ان میں سے اکثر کی تخلیقات اور انتاجات سے استفادہ کرتا رہتا ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کی کوشش سے آگہی کے نام سے معاصر علمی افق پر جوستارہ نمودار ہوا ہے وہ ذہن و فکرکے دریچوں کو تابناک کرے گا ان شاء اللہ ۔ آپ نے مضمون لکھنے کا حکم

اطہر افضال (دہلی) مکمل پڑھیں

محمد ابوالقاسم فاروقی

برید آگہی

حسن ذوق کی داد دیتا ہوں، حسن معنوی اور صوری سے آراستہ جیسے بیوٹی پارلر سے سج سنور کر ابھی ابھی دلہن ہولے ہولے قدم رکھتے ہوئے میریج ہال میں داخل ہوئی ہو۔ گھونٹ گھونٹ نگاہوں سے پی رہا ہوں۔ رسالہ دیکھ کر اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اہلحدیثوں میں ذوق جمال نہیں ہے۔ آگہی ٹیم کو مبارکباد جس نے اس سج دھج کے ساتھ یہ رسالہ نکالا۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ آب و تاب کبھی ماند نہ پڑے۔ آمین۔ اٹھان تو بہت شان دار ہے، مضامین کا تنوع رسالے کی روح ہے، جس کے قلم

محمد ابوالقاسم فاروقی مکمل پڑھیں

error: Content is protected !!
اوپر تک سکرول کریں۔