غزل
حمود حسن مبارکپوری شمارہ نمبر 1، جنوری تا مارچ 2025کیا کب وہ ارادہ جو ٹلا ہو بلا سے میری کوئی بھی بلا ہو ہے دنیائے محبت اک تماشہ سو دنیائے محبت کا بھلا ہو ہوں بھرنے کو میسر سارے ساماں دلوں کے درمیاں پھر بھی خلا ہو تری آنکھوں کی مہجوری نے گویا نشاط دید پر سایہ ملا ہو حدیث رنگ و بو کے درمیاں ہی بہت ممکن ہے میرا دل جلا ہو کوئی ایسا نہیں راہ وفا میں جو میرے ساتھ فی الواقع چلا ہو میں جائے ماجرا اب تک کھڑا ہوں کہ جیسے کوئی پتھر میں ڈھلا ہو ہو فرعون تمنا جسم و جاں میں تو پھر…...