ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے
رشید ودود شمارہ نمبر 1، جنوری تا مارچ 2025اول شب ہے۔محفل جمی ہوئی ہے۔ احباب محو گفتگو ہیں لیکن ایک شخص چپ ہے اس کی آنکھوں میں اضطراب کی لہریں ہیں۔ مجھ سے رہا نہیں گیا، پوچھ بیٹھا کہ اداس ہو تو کیوں ہو؟ کہنے لگا کہ اداس ہوں لیکن اداسی کا سبب مادی نہیں ہے، روحانی ہے، میں اداس ہوں لیکن تم جیسوں کی رائیگانی پر، تم لوگ خود کو تباہ کر رہے ہو لیکن رونا تو اسی بات پر ہے کہ خود تم ہی لوگوں کو اپنی رائیگانی کا احساس نہیں ہے، محفل کیف و مستی کی تھی لیکن باتیں اتنی گہری تھیں کہ نہ چاہتے […]
ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے مکمل پڑھیں