غزل
شمارہ نمبر 1، جنوری تا مارچ 2025 فائز بلرامپوریبکھر بکھر کے مرے خواب پائمال رہےوہ اِس کے بعد بھی نا آشنائے حال رہے تمام عمر اِسی بے خودی میں گزری ہےہم اپنی سوچ کےہاتھوں ہی یرغمال رہے اسی سے خانۂ دل میں ہے روشنی پیہمخدا کرے کہ مرا درد لازوال رہے کسی کی یاد میں صدیاں گزار دی ہم نےتجھے اے عمر گزشتہ ذرا خیال رہے یہ رنگ و نور، یہ جام و سبو تو ہوں لیکنکوئی تو بزمِ نگاراں میں ہم خیال رہے کسی کی دید کی خواہش نہیں مگر فائزیہ آنکھ زخمِ تمناء سے پُر ملال رہےrrr … FIRST ISSUE Membership Required You must be a...